Hook

Their other posts in the index, biggest breakout first.
ایک دفعہ حضرت فاطمہ نے سونے کا لاکٹ پہنا تھا اور حضرت امام حسن اور حسین کو چاندی کے کنگن پہنائے تھے۔ حضور کی عادت تھی سفر پہ جاتے تھے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ سے ملتے۔ واپس آتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ سے ملتے۔ میرے حبیب واپس آئے حضرت فاطمہ کے دروازے پہ قدم رکھا تو گلے میں لاکٹ دیکھا۔ شہزادوں کے پاس کنگن دیکھے وہیں سے قدم پیچھے ہٹا لیا۔ وہیں سے میرے رسول نے قدم پیچھے ہٹا لیے۔ حضرت فاطمہ ہچکیاں لے کے رونے لگی۔ حضرت علی گھر آئے تو کہا فاطمہ کیا ہوا؟ کہا علی پتہ کوئی نہیں حضور آئے ہیں تو لوٹ گئے ہیں۔ میں بڑی پریشان ہوں پتہ کرو۔ زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا میرے رسول ہی مجھ سے ناراض ہو گئے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ جاؤ معلومات۔ حضرت علی کہتے ہیں مسجد میں گیا تو نبی پاک بھی رو رہے تھے۔ میں نے کہا حضور کیا ہوا؟ فاطمہ گھر میں رو رہی ہے آپ یہاں رو رہے ہیں۔ تو میرے حبیب نے فرمایا علی وہ محمد کی بیٹی ہو کے سونا پہنتی ہے۔ وہ محبت کی بیٹی ہو کے بچوں کو چاندی پہناتی ہے۔ سونے سے دل لگا رہی ہے۔ فرمایا اگر فاطمہ سونا پہنے گی تو میری امت کی غریب بیٹیاں کیا کریں گی؟ جو باپ نہیں لے کے دے سکے گا وہ کیا کریں گی؟ فرمایا وہ سونا پہنتی ہے چاندیوں میں کھیلتی ہے۔ کہا حضور مجھے مال غنیمت سے کچھ حصہ آیا تھا تو میں نے تو پہلی دفعہ لے کے دیا۔ فرمایا بات الگ ہے۔ لیکن فاطمہ کو اجازت نہیں اگرچہ جائز پیسوں کا ہے۔ فاطمہ کو اجازت نہیں اس نے زہد کرنا ہے۔ سیدہ زاہدہ طیبہ طاہرہ اس نے زہد کمانا ہے۔ شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم فرماتے ہیں میں گیا فاطمہ کو بات سنائی تو انہوں نے اتار کے دیا ہر چیز کا جا مدینے کے غریبوں میں بانٹ دے۔ اصحاب صفہ میں خیرات کر دے۔ کہتے ہیں حضور واپس آئے تو سیدہ فاطمہ دوڑ کے سینے سے لگ گئیں۔ رو کے آنسو بہائے۔ محبوب نے فرمایا فاطمہ میں دنیا میں مسافر بن کے آیا ہوں۔ مسافروں کی طرح وقت گزاروں گا۔ تجھے اجازت نہیں دنیا کے مال و دولت سونا چاندی کو دیکھنے کی۔ تو نے زہد کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ یہ تربیت ہے میرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم۔