Hook

تقریباً لوگ آپ کو پتہ ہے میں پاکستان میں میں کہتا ہوں کمال ہے لوگوں کا کہ کبھی بھی ریٹرن کو ریٹرن چارجز جو آتے ہیں اس کو کبھی بھی وہ ایڈ سپینڈ پر ڈالتے ہی نہیں ہیں۔ اور وہ اپنے پروڈکٹ کی جو آپ کا ٹوٹل جو گراس پرافٹ ہوتا ہے میں نے ریٹرن اگر میری کمپنی لائشہ کا سات پرسنٹ ہے اگر وہ میں پندرہ پرسنٹ کے حساب سے اپنے پروڈکٹ کی ویلیو میں پہلے پہلے ڈال دیتا ہوں کہ بھائی اگر میں پروڈکٹ کی ٹوٹل کاسٹ لگا رہا ہوں کہ یہ پروڈکٹ مجھے ٹوٹل کتنے کا پڑے گا تو اس میں ریٹرن آپ پہلے ایڈ کرو گے تب اس کی ایک پروڈکٹ کاسٹ کا حصہ ہے۔ میں ایک بندے سے میری بات ہوئی کہہ رہا ہے احمد بھائی میں بیچ رہا ہوں پروڈکٹ بک رہے ہیں بہت میں کنسلٹیشن سیشن بھی کچھ کرتا ہوں نا بیچ میں بہت ریئر ہوتا ہے لیکن کرتا ہوں۔ مجھے وہ کہہ رہا ہے احمد بھائی مال بک رہا ہے گراس پرافٹ ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہا پیسے کہاں جا رہے ہیں۔ میں نے بولا اچھا چلو توڑ دو توڑتے ہوئے بتاؤ ساری چیزیں اب مجھے۔ میں نے بولا بیگ ہے وہ بیگ بنا رہا تھا میں نے بولا بیگ کتنے کا پڑتا ہے کہہ رہا دو ہزار روپے کا اٹھارہ سو روپے کا۔ میں نے بولا اچھا کتنے کا بیچتے ہو کہہ رہا چھبیس سو روپے کا میں نے بولا آٹھ سو روپے تو مارجن ہے تمہارا۔ اب یہ بتاؤ پیکجنگ کاسٹ کیا ہے؟ کہہ رہا ہے دو سو بیس روپے۔ میں نے بولا وہ ڈالی تھی؟ کہہ رہا نہیں۔ میں نے بولا بہت اچھی بات ہے اگلا آؤ۔ میں نے بولا کوریئر کاسٹ کیا آتی ہے وہ کہہ رہا ہے کوریئر میں فری دیتا ہوں صحیح ہے سب کو فری شپنگ کرتا ہوں۔ میں پہلی چیز یہ کہتا ہوں کوریئر آپ کو فری نہیں دینا چاہیے۔ کسٹمر کے مائنڈ میں ہے کہ میں کچھ بھی آن لائن منگواؤں گا دو سو روپے کوریئر لگتا ہے۔ اس کے دماغ میں جب وہ دینا چاہتا ہے تو کیوں لینے اور ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ یہ اپنی جیب میں نہیں ڈال رہا یہ کوریئر کو ہی دے گا ایسا ہی ہے ایسا ہی ہے دنیا جہاں میں آپ جاتے ہیں کوریئر کاسٹ ہوتی ہے نا۔ تو میں نے بولا کوریئر کاسٹ کتنی ہے تو اس نے بولا بھائی دو سو کے آس پاس ڈھائی سو روپے ہے تقریباً۔ میں نے بولا یہ ڈال دے بھائی یہ ہو گئے میں نے بولا ساڑھے چار سو روپے کے آس پاس ہو گئے کہہ رہا جی ہو گئے ساڑھے چار سو روپے میں نے بولا اٹھارہ سو پہ ایڈ کر لے کہہ رہا سر ساڑھے بائیس سو ہو گئے۔ میں نے بولا اب یہ بتاؤ ایڈ پہ کتنا خرچہ کرتے ہو؟ پھر میں نے بولا یہ بتاؤ فلائر اپنا بنایا ہوا ہے کہہ رہا جی سر اپنا بنایا ہوا ہے۔ میں نے بولا بہت اچھی بات ہے کتنے کا فلائر پڑتا ہے؟ تو وہ کہہ رہا ہے ہاں یہ میں نے بولا اس میں ببل ریپ کرتا ہے کہہ رہا ہاں میں نے بولا پر پیس کاسٹ کیا آتی ہے؟ میں نے بولا یہ بھی ڈالو اس پہ میں نے بولا اب ایکوزیشن کاسٹ کیا ہے؟ اور اس نے بولا بھائی پانچ سو روپے کا آتا ہے میں نے بولا ڈال دے یہ بھی گن گنا کے اٹھائیس سو روپے ہو گئے۔ میں نے بولا اچھا اب ریٹرن کتنا آتا ہے کہہ رہا اتنا پرسنٹ میں نے بولا اتنا پرسنٹ جو ریٹرن ہے اس کا مطلب پر یونٹ تمہارا اتنا بیچتے ہو پر یونٹ کاسٹ تمہاری یہ آئی وہ اس میں ایڈ کرو تمہیں بیگ پڑتا ہے تین ہزار کا اور تم باؤلے تم چھبیس سو کا بیچتے ہو۔ یہاں جا رہے ہیں تمہارے پیسے یہ کیلکولیشن ہے یہ کیلکولیشن میں یونٹ اکنامکس سب سے امپورٹنٹ چیز ہوتی ہے پروڈکٹ لیول بزنس میں آپ نے یونٹ اکنامکس میں کام ہی نہیں کیا کسی نے اور ہمارے ہاں لوگ صرف یہ دیکھ رہے ہیں فیس بک پیج کھولتے ہیں ایڈ چلاؤ ایڈ چلاؤ ایڈ چلاؤ ایڈ چلاؤ وہ ایڈ پہ اتنا فوکس ہوتے ہیں وہ پروڈکٹ بھول جاتے ہیں وہ ویب سائٹ بھول جاتے ہیں وہ یو آئی یو ایکس بھول جاتے ہیں کسٹمر ایکسپیرینس سب بھول جاتے ہیں۔ وہ صرف بولتے ہیں بس ہم ایڈ چلائیں گے آرڈر آئے گا بھیج دیں گے۔
Their other posts in the index, biggest breakout first.